انسانی اسمگلنگ کی ایک دلخراش داستان - برادر ابن حسن کی زُبانی
آپ بھائی ابن حسن ہیں؟. ہاں! آپ کون ہو؟ اس کے بعد وہ نہیں بولا. اس کی آواز میں کپکپی تھی. پھر اچانک سے آواز آئی آپ کا بندہ فلاں جگہ پر ہے آکر لےجاو. اس بار بولنے والا فارسی میں بات کررہا تھا. میں نے کہا محترم میں بندوں کا کاروبار نہیں کرتا. مجھے بات تفصیل کے ساتھ سمجھائیں. یہ پوچھنے کا مجھے حق تھا کیونکہ یہ پراسرار باتیں میرے فون نمبر پر کال کرکے کی جارہی تھیں.
معلوم ہوا گھر سے بھاگے ہوئے 18 سالہ ایک پاکستانی نوجوان کو ایران کے راستے ترکی اور وہاں سے یونان یا اسپین لیجایا جا رہا یا وہ خود جا رہا تھا لیکن کسی وجہ سے انسانی سمگلروں کے چنگل سے بھاگ کر تہران کے ایک میٹرو اسٹیشن کے گارڈز تک جا پہنچا تھا. میرا نمبر اسے ہمارے علاقے کے ایک صاحب نے اس وقت دیا تھا جب وہ دوران سفر اسمگلروں کے چنگل سے بھاگنے کا ارداہ بنا کر کسی طرح گھر فون پر اپنی غلطی اور خود پر پڑنے والی مصیبت اور اپنی لوکیشن بتا چکا تھا.
اس کی مدد کرنا میرا اخلاقی فرض تھا. اسے کسی ٹیکسی پر بٹھا کر ڈرائیور سے میری بات کروا دو, میں نے فون پر تفصیل بتانے والے کو کہا.
نحیف جسم, اڑی ہوئی رنگت, بکھرے ہوئے بال, مٹی سے اٹے کپڑے, خالی شکم, پھٹے ہوئے جوتے, خشک ہونٹ اور کانپتا جسم لیے جب یہ میرے سامنے پہنچا تو لمحے بھر کو میں بھی کانپ اٹھا کہ یہ کونسی دنیا ہے جہاں انسانیت کی اتنی تذلیل بھی ہوتی اور وہ کونسا ہدف ہے جس کے لیے انسان خود اس کٹھن اور خطرناک کھیل میں کودتے ہیں. اس کے ہاتھ میں صرف روٹی کا ایک ٹکڑا اور پانی کی ایک بوتل تھی جو شاید اس پر ترس کھاکر اسے ٹیکسی والے نے دی تھی. اس کا سامان, اضافی پیسے سب کچھ اسمگلروں نے اپنے قبضے میں رکھا ہوا تھا تاکہ یہ بھاگ نہ جائیں. اسے انسانی اسمگلر یورپ میں اچھے روزگار کا چکمہ دیکر فیصل آباد سے لائے تھے.
پچاس ہزار روپیہ اس نے کوئٹہ آکر حاجی نامی اسمگلر کو دے دیا تھا. قانونی کاغذات کے بغیر کوئٹہ سے دالبدین اور پھر وہاں سے ایران پاکستان بارڈر کے اوپن ایریا سے انہیں گزار کر ایرانشہر لایا گیا. راستے میں کچھ مزید افغانی اور پاکستانی بھی ان کے ساتھ شامل کیے گئے. ڈالوں میں جب لٹایا جاتا تو 4 بائی 2 متر کی جگہ پر 25 سے 30 افراد ایکدوسرے کے اوپر لٹا کر موٹی ترپال سے اوپر سے ڈھک دیا جاتا. جن کو سانس کے لیے تازہ اکسیجن ملتی ان کو ملتی جن کو نہ ملتی ان کی قسمت. جو سانس گھٹنے سے بے ہوش ہوجاتے انہیں وہیں بے آب و گیاہ ویرانے (صحرا) میں پھینک دیتے (البتہ کہتے تھے پیچھے حاجی موٹرپر آرہا ہے وہ ڈاکٹر کے پاس لے جائے گا؛ شاید ان کے اطمینان کے لیے کہتے ہوں!). ایرانشہر پہنچنے تک کل تعداد 70 ہوگئی تھی جس میں تقریبا 12 خواتین اور 20 کے قریب بچے تھے.
جہاں بھاگنا پڑتا وہاں بچوں کو گروپ کے سب افراد باری باری حمل کرتے. 2 شیر خوار بھی تو تھے. جو لوگ افغانستان کی طرفسے آکر ساتھ ملے تھے ان کے چہروں پر زخم بھی تھے اور تشدد کے نشان بھی. کپڑے پٹھے ہوئے تھے اور جوتے بھی. بلکہ جوتے تو چاقو سے کاٹے گئے تھے. بھاگتے ہوئے بتاتے تھے نیمروز کے علاقے (افغانستان کا سرحدی علاقہ) میں ڈاکوؤں (بقول ان کے طالبان) نے حملہ کیا اور ہمیں جہاں بری طرح مارا وہیں پیسے اور سامان بھی چھین لیا.
ایرانشہر سے تہران آنے تک 7 دن لگے. دن کو پہاڑوں اور صحراوں میں سو جاتے (مگر دھوپ پر) رات کو ڈالوں میں ڈال کر آگے بڑھتے. کہیں تو پیدل بھی چلتے رہے. تہران میں ایک گودام میں رکھا گیا. تہران سے سب کو 3 تین یا 4 چار کی ٹولیوں میں کاروں میں بٹھا کر ترکی کے بارڈر (تبریز) کی طرف لےجایا جاتا رہا. آخری ٹولی میں یہ تھے. صادقیہ پہنچ کر جب دوسری ٹیکسی میں بٹھانے لگے تو یہ بھاگ کھڑا ہوا. وہ اس کے پیچھے بھاگے لیکن شاید زیادہ دور تک نہیں.
انسانی اسمگلروں کا اپنے ناپاک اہداف کے لیے معصوم انسانوں کو ورغلانے اور گھر سے بھگا کر لے جانے کا یہ ایک واقعہ تھا جس سے اس بار ہمیں روبرو ہونا پڑا. قانون اور جرم کا طالب علم ہونے کے ناطے میرا ایسی کئی بین الاقوامی و قومی رپورٹس, قوانین اور اداروں سے روز ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن جو درد اپنے سامنے تصویر بنے کھڑے اس نوجوان کی معصومیت میں تھا وہ شاید کم ہی کہیں دیکھا ہو.
وہ بولتا تو روتا, وہ ہونٹ ہلاتا تو خشکی لب کیوجہ سے خون رستا, وہ پاوں اٹھاتا تو بھوک کیوجہ سے پیدا ہونے والی نقاہت سے ڈول جاتا. میں اسے ہنساتا لیکن وہ تصویر بنا رہا اور اس کے نقوش اس انسانی المیے کی تصویر بناتے رہے. 
میرا ڈیڑھ سال کا بیٹا صرف مسکراتا نہیں بلکہ قہقے لگا کر ہنستا ہے اور ہروقت ہنستا ہے لیکن اس نوجوان کی صورت پر نمودار درد یا اس کے ماتھے پر لکھی ظلم کی تحریر دیکھ کر میرا زانو ہلا کر اپنی طوطلی زبان میں بار بار کہتا تھا "بابا! چاچو رو رے ہے".
انسانی سمگلنگ ان جرایم میں سے ایک ہے جو انسانیت کے لیے المیہ بن چکے ہیں. پاکستان میں 10 ہزار کے قریب انسان اسمگلنگ کے سرکلز ہیں. روزانہ سینکڑوں پاکستانی ان درندوں کا شکار بنتے ہیں. پاکستانی اسمگلر آدھے راستے قانونی تو بقیہ آدھے غیر قانونی طے کرواتے ہیں. ملائیشیا اور اس کے ہمسایہ ممالک سے آسٹریلیا جبکہ ایران اور ترکی کے راستے سے یونان اسپین و یورپ کی دیگر ریاستوں کی طرف لے جایا جاتا ہے. ایک شخص لاکھوں میں ادائیگیاں کرتا ہے تاکہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے. لیکن 80 فیصد لوگ یا تو مارے جاتے ہیں یا پکڑے جاتے ہیں.
انسانی اسمگلر جبری مشقت(مزدوری), جنسی سو استفادے اور انسانی اعضاء کی خرید و فروخت کے بین الاقوامی کاروبار سے جڑے ہوتے اور ان تمام انسانوں کو انہی میں سے کسی ایک کام میں جھونکا جاتا ہے لیکن خواب سب کو اچھے روزگار سے بہتر مستقبل کا ہی دکھایا جاتا ہے.
میں چند بار پہلے بھی ایران اور ترکی کے بارڈر پر مارے جانے والے پاکستانی بچوں کی لاشیں پاکستان بھجوا چکا ہوں لیکن آج انٹرنیٹ کھنگالنے کے باوجود اس دھندے کی روک تھام کے لیے پاکستانی اداروں کے کسی قابل ذکر اقدام کو دیکھنے سے محروم ہی رہا.
کوئی حکومت کچھ کرے یا نہ کرے والدین جن کی پہلی ذمہ داری اولاد کو بہتر روزگار فراہم کرنا اور ان کی اچھی تربیت ہے وہ تو اس عنوان سے سنجیدہ ہوسکتے اور اپنے پھول جیسے بچوں کو اپنے ہاتھوں یا غفلت سے موت کے حوالے کرنے سے گریز کرسکتے ہیں.
خدارا اپنے بچوں پر رحم کریں. ان کی حرکات و سکنات کو زیرنظر رکھیں, ان کے دوستوں خصوصا سوشل میڈیا کے دوستوں پر نظر رکھیں, ان کے بہتر روزگار اور ان کی دیگر ضروریات پوری کرنے کا اپنا فرض نبھائیں تاکہ کل آپ کو اپنے بچے کی لاش یا لاش نما جسم نہ وصول کرنا پڑجائے.
حکومتیں لاکھ اس امر کی حوصلہ شکنی کرتی رہیں لیکن جب تک والدین اپنے بچوں کو اس اور اس جیسے دیگر دھندوں سے دور رکھنے میں سنجیدہ نہیں ہوں گے تبتک ہر سال لاکھوں بچے اور نوجوان بے رحم انسانی اسمگلروں کے ناپاک دھندے کا ایندھن بنتے رہیں گے.
جس نے اسے انسانی اسمگلروں سے متعارف کروایا وہ شخص فیس بک پر اس کا دوست بنا تھا. وہ فرانس میں ہے. اس نے اسے میرا نمبر بھی دے رکھا تھا. اس نے دو بار مجھے کال کی کہ فلاں آپ کے پاس ہے واپس کردو. میں نے کونسا اغوا کیا ہوا تھا جو واپس کرتا یہ تو اس کی اپنی ہمت تھی جو مجھ تک پہنچا اور موت کا سفر مزید نہیں کرنا چاہتا تھا.
قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد میں نے اسے واپس پاکستان روانہ کردیا ہے. خدا اسے خیریت سے اپنے ماں باپ کے پاس پہنچائے اور تین بہنوں کا اکلوتا بھائی جاکر بہنوں کے آنسو پونچھے. اس کے گھر سے بھاگنے اور انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں غیرقانونی طریقے سے دوسرے ملک پہنچنے کی خبر سنکر اس کی ماں کو ہارٹ اٹیک ہوچکا تھا. شاید بیٹے کی آواز سن کر کچھ دوام لائے اور اس کے پاکستان پہنچنے تک زندہ رہے.
Syed ibnehasan
__._,_.___

Posted by: SYED MEESAM ALI NAQVI <syedmeesamali@yahoo.com>

Post a comment

 
Top